اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، یمن، لیبیا اور مالدیپ نے قطر کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات منقطع کرتے ہوئے اسے عرب فوجی اتحاد سے بھی خارج کردیا، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔
عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنے زمینی، آبی اور ہوائی راستے بھی بند کردیے ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے بتایا کہ ریاض حکومت نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں جب کہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خطرات سے بچنے اور قومی سلامتی کے پیش نظر قطر کے ساتھ سرحدیں بھی بند کی جارہی ہیں۔
سعودی ایجنسی نے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہ قطر القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں اور باغی ملیشیاؤں کی حمایت کرتا ہے اور اس کے اقدامات سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب نے قطری حکام پر گزشتہ کئی سال کے دوران سنگین خلاف ورزیوں کا الزام بھی عائد کیا۔
بحرین نے قطر پر اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے اور سلامتی و استحکام کو خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے باہمی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ قطر اخوان المسلمون سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔
مصر کی وزارت خارجہ کا بیان میں بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ مصر نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مصر قطری جہاز اور طیاروں کے لیے اپنی بندرگاہ اور ہوائی اڈے بھی بند کر رہا ہے اور یہ فیصلہ قومی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی جن خطوط پر استوار ہے وہ سراسر تباہی کا راستہ ہے کیونکہ اخوان المسلمین ک خاتمے اور السسی کی اقتدار کے لیے راہ ہموار کرنے میں بھی سعودیہ کا ہی ہاتھ تھا تاہم اخوان المسلمین ایک مرتبہ پھر ابھرے گی اور سعودیہ کو اس کی پالیسی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
اسی طرح حالیہ اسلامک کانفرنس میں سعودیہ نے پاکستان کو بھی خود سے الگ کر دیا ہے حالانکہ پاکستان آج تک ںہ صرف سعودی سیکورٹی کے لیے مفت کی فوج فراہم کرتا رہا بلکہ اس کے کہنے پر اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات بھی خراب کیے۔ اور اب قطر سے بھی تعلقات کی منسوخی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سعودیہ خودساختہ زوال کے رستے پر چل پڑا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169